ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار: ڈسٹرکٹ سیو ل عدالت سے ججوں کا بار بار تبادلہ۔التوا میں پڑے ہیں معاملات کے ڈھیر

کاروار: ڈسٹرکٹ سیو ل عدالت سے ججوں کا بار بار تبادلہ۔التوا میں پڑے ہیں معاملات کے ڈھیر

Tue, 02 Jul 2019 20:17:50    S.O. News Service

کاروار 2/جولائی (ایس او نیوز) اُترکنڑا دسٹرکٹ  سول عدالت میں گزشتہ ایک سال سے کسی بھی جج کو زیادہ دن ٹکنے نہیں دیا جارہا ہے جس کے نتیجے میں  کئی کام کاج التوا میں پڑے ہیں اور عوام کو سخت دشواریاں پیش آرہی ہیں۔

کہا جارہا ہے کہ سول جج کی حیثیت سے تقرری کے ڈیڑھ دو مہینے میں ایک بار بنگلورو یا دوسرے شہر کے لئے جج کا تبادلہ کردیا جاتا ہے جس کا خمیازہ مدعی، مدعا علیہ، گواہ اور وکیلوں کو بھگتنا پڑرہا ہے۔کیونکہ برسہابرس سے سیکڑوں معاملات زیر سماعت اور التوا میں پڑے ہوئے ہیں۔اوراب صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ ایک مہینے سے یہاں جج کا تقرر نہیں ہوا ہے اور عدالت میں کسی بھی قسم کی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔

وکیلوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی جج کا تقرر ہوتا ہے تو اس علاقے کے سول اور کریمنل معاملات کو سمجھنے کے لئے انہیں کم ازکم 6مہینے کا وقت درکار ہوتا ہے۔ لیکن یہاں پر تقرری کے دو مہینے کے اندر ہی جج کا تبادلہ کردیا جاتا ہے۔ضلعی عدالت کا تقریباً پورے کا پورا نظام بگڑا ہوا ہے۔ ہائی وے کے لئے تحویل اراضی کے معاملات ابھی التوا میں ہیں۔ کریمنل معاملوں کے ملزمین جیلوں میں پڑے ہیں۔ ان میں سے کئی ملزمین بے گناہ بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔بہت سے معاملات میں جو اپیلیں داخل کی گئی ہیں ان کا فیصلہ بھی التوا میں پڑا ہوا ہے۔

کاروار کی عدالت میں جج کی غیر موجودگی سے مشکل یہ آن پڑی ہے کہ چاہے کتنا چھوٹا سامعاملہ کیوں نہ ہو، ضلع کے لوگوں کو سرسی کی عدالت سے رجوع ہونا پڑ رہا ہے۔

کچھ عرصہ قبل یہ خبر عام ہوئی تھی کہ کاروار کے لئے حکومت کی طرف سے ایک ایڈیشنل سیشنس کورٹ قائم کیا جائے گا، تاکہ التوا میں پڑے ہوئے سول اور کریمنل دونوں ہی زمروں کے سیکڑوں معاملات کو جلد سے جلد نپٹایا جاسکے۔اسی مقصد سے مرکزی حکومت نے اس سے پہلے سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق فاسٹ ٹریک کورٹ قائم کیے تھے۔ اس طرح کی دو فاسٹ ٹریک عدالتیں کاروار میں بھی قائم کی گئی تھیں، لیکن صرف پانچ سال تک یہ عدالتیں کام کرتی رہیں اور اس کے بعد سے انہیں غیر فعال کردیا گیا ہے۔فی الحال کاروار میں 2جے ایم ایف سی عدالتیں موجود ہیں۔ لیکن زیر سماعت اور التوا میں پڑے ہوئے معاملات کے ڈھیر کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ابھی ایسی مزید چار عدالتوں کی ضرورت ہے۔    


Share: